نئی دہلی3ستمبر (ایس او نیوز؍ آئی این ایس انڈیا ) یو پی اے دور حکومت میں دیئے گئے قرض پر وزیر اعظم نریندر مودی کے تبصرہ پر جوابی حملہ کرتے ہوئے سابق وزیر خزانہ پی چدمبرم نے اتوار کو پوچھا کہ این ڈی اے حکومت کو یہ بتانا چاہیے کہ ان کے وقت میں دیے گئے کتنے قرض ڈوب گئے۔
کانگریس لیڈر نے اس سلسلے میں کئی ٹویٹ کئے۔ انہوں نے اپنے ٹویٹ میں کہا کہ مئی 2014 کے بعد کتنا قرض دیا گیا اور ان میں سے کتنی رقم ڈوب گئی۔ چدمبرم نے کہا کہ یہ سوال پارلیمنٹ میں پوچھا گیا لیکن اب تک اس پر کوئی جواب نہیں آیا ہے۔ہفتہ کو وزیر اعظم نے ایک پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس قیادت سابقہ یو پی اے حکومت کو این پی اے کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔
انہوں نے کہا کہ 12 بڑے ڈیفالٹروں کے خلاف کارروائی شروع کی گئی ہے۔ ان پر 1.75 لاکھ کروڑ روپے کا قرض ہے اور انہیں 2014 سے پہلے یہ قرض دیا گیا تھا۔ مودی نے کہا تھا کہ 27 دیگر بڑے ڈ یفالٹروں پر بھی کارروائی کی جائے گی۔ ان پر تقریبا ایک لاکھ کروڑ روپے واجب الادا ہیں۔
چدمبرم نے کہا کہ وزیر اعظم مودی جب کہتے ہیں کہ یو پی اے حکومت کے وقت دیے گئے قرض ڈوب گئے، اس بات کو اگر صحیح مان بھی لیا جائے تو ان میں سے کتنے قرضوں کا تجدید موجودہ این ڈی اے حکومت کے دور میں کی گئی اور ان میں سے کتنے کو رول اوور کیا گیا۔ سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ ان قرضوں کو واپس کیوں نہیں لیا گیا؟ ان قرضوں کو ایورگرین کیوں کیا گیا۔ واضح ہو کہ ایورگرین قرض ایسا قرض ہوتا ہے جس میں ایک خاص مدت کے اندر اندراصل پونجی ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔